Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ٹیکنیکل پہلو پایا جاتا ہے۔ یہی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ایک اور متعین پہلو موجود ہے۔ اس کو باعتبار نوعیت، اخلاقی پہلو (ایتھیکل پہلو) کہا جا سکتا ہے۔ اس سے میری مراد کائنات میں پیشین گوئی کیئے جانے کی قابلیت (predictability) ہے۔ کائنات مکمل طور پر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کی حامل ہے۔ مثلاً مذکورہ بالا مثال میں، غیر متغیر طور پر پیشین گوئی کی جا سکتی ہے کہ جب بھی میگینیٹک فیلڈ اور موشن کو یکجا کیا جائے گا تو لازماً وہاں کرنٹ پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح جب بھی میگینیٹک فیلڈ اور کرنٹ کو یکجا کیا جائے گا تو لازماً موشن پیدا ہو جائے گا۔ کائنات کا اس طرح قابل پیشین گوئی ہونا گویا اس کا وہ پہلو ہے جس کو انسان زبان میں اخلاقی (ایتھیکل) پہلو کہا جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم یہ تضاد دیکھ رہے ہیں کہ ہماری ٹیکنالوجی نہایت صحت کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے۔ وہ ہمیشہ وہی مطلوبہ نتیجہ برآمد کرتی ہے جس کی اس سے امید کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، انسان غیر صحیح بنا ہوا ہے، انسان اس مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا جس کی اس سے بجا طور پر امید قائم کی گئی ہو۔ اس تضاد کا واحد سبب یہ ہے کہ انسان نے کائناتی پیٹرن کے ٹیکنیکل پہلو کو تو پوری طرح اپنایا، مگر وہ اس کے اخلاقی پہلو کو اپنانے کے لیے تیار نہ ہو سکا۔ قابلِ پیشین گوئی کردار قرآن میں پسندیدہ بندوں کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کرنے والے لوگ ہیں جب کہ وہ کسی سے عہد کر لیں (2:177)۔ یہ عین وہی اخلاقی صفت ہے جس کو ہم نے قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) سے تعبیر کیا ہے۔ جس طرح لوہے کے اوپر کسی چھت کو کھڑا کیا جائے تو پیشگی طور پر یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ چھت کے بوجھ کو سنبھالے گا۔ اسی طرح جب ایک انسان دوسرے انسان سے کوئی عہد کرے تو پیشگی طور پر یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ ضرور اس عہد کو پورا کرے گا، وہ کسی حال میں اس سے نہیں ہٹے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page