Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی بات کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ منافق آدمی کی تین نشانیاں ہیں— جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ جب وہ وعدہ کرے تو اس سے پھر جائے۔ جب اس کو امانت سپرد کی جائے تو وہ امانت میں خیانت کرے: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ (صحیح البخاری ، حدیث رقم (33)۔ مذکورہ تینوں باتیں قابل پیشین گوئی کردار کے خلاف ہیں۔ کسی انسان سے جب بات کی جاتی ہے تو اس اعتماد پر کی جاتی ہے کہ وہ صحیح بات کہے گا ، وہ غلط بیانی سے کام نہیں لے گا ۔ اب اگر وہ خلاف واقعہ بات بولنے لگے تو اس نے پیشگی اندازہ کے خلاف عمل کیا۔ اسی طرح جب کسی سے عہد و پیمان کیا جاتا ہے تو اس یقین کی بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کا آئندہ عمل عین اس عہد کے مطابق ہوگا۔ اب اگر آدمی اپنے کیے ہوئے عہد کے خلاف کرنے لگے تو اس نے اپنے بارے میں پیشگی اندازہ کو پورا نہیں کیا۔ اسی طرح جب کوئی امانت کسی کے حوالے کی جاتی ہے تو وہ بھی اس پیشگی اعتماد کی بنیاد پر کی جاتی ہے کہ وہ ادائیگی کے وقت امانت کو پوری طرح ادا کرے گا۔ اب اگر بوقتِ ادائیگی وہ امانت کو اس کے حق دار کی طرف نہ لوٹائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل نہ تھا۔ کائنات اپنے قابل پیشین گوئی کردار کی وجہ سے کامل ہے، اسی طرح انسان بھی اس وقت کامل ہو سکتا ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی کردار کا حامل بنے۔ کثرت میں وحدت کائنات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کثرت میں وحدت کا اصول کار فرما ہے۔ یعنی چیزیں بظاہر مختلف اور متعدد ہیں۔ مگر جب ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام چیزیں اپنی آخری حقیقت کے اعتبار سے ایٹم (atom) کا مجموعہ ہیں ۔ ہر چیز بالآخر ایٹم ہے، خواہ بظاہر وہ کچھ بھی دکھائی دیتی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page