کثرت میں وحدت
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی کا کُناتی پیٹرن انسانوں کے اندر بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ انسان بظاہر دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ ان میں رنگ اور دوسری چیزوں کے اعتبار سے بہت سے فرق پائے جاتے ہیں۔ مگر ان کا تاریخی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام نسلیں آخر کار ایک ماں باپ پر جا کر ختم ہوتی ہیں۔ گویا سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے غیر۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا نکالا، اور پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت زمین پر پھیلا دیے: یٰأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً (1: 4)۔ یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے: سن لو کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے تھے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5116)۔ وحدتِ انسانیت کا یہ تصور ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ وہ پوری انسانی نسل کو ایک خاندان اور ایک برادری کی مانند بنا دیتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 7456)۔ یعنی، تمام مخلوق اللہ کی کنبہ ہے۔ پس تمام لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کے کنبہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ کائناتی ماڈل کثرت میں وحدت کی صفت رکھتا ہے۔ انسان کو بھی اسی کائناتی ماڈل پر اپنی زندگی کا نقشہ بنانا چاہیے۔ اس کو کوئی میں ایک کا نمونہ بن جانا چاہیے۔ کائنات میں جب کثرت میں وحدت (unity in diversity) کا اصول کارفرما ہے، تو انسان کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader