تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
درست نہیں کہ وہ یہاں کثرت کو ایک کرنے (unification of diversity) کے طریقہ پر زندگی کا نظام بنانے کی کوشش کرے۔ حیاتیاتی اخوت وحدت انسانیت یا وحدت بنی آدم کی حقیقت جس کا اعلان پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے کیا تھا، اب وہ جدید تحقیقات کے نتیجہ میں ایک سائنسی واقعہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مالح کیول حیاتیا ت (molecualr biology) نے بہت ترقی کی ہے۔ ڈی این اے (DNA) کے ذریعہ گہری نسلی رازوں کو دریافت کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ چنانچہ امریکہ میں چین کے ماہرین (geneticists) کی ایک ٹیم نے یہ کام اپنے ذمہ لیا کہ وہ انسان کے مشترک جد اعلیٰ (common ancester) کو دریافت کریں گے ۔ ڈی این اے کے طریقہ میں ابتدائی باپ (great-grandfather) کو دریافت کرنا زیادہ مشکل تھا۔ انھوں نے (great-grandfather) (ابتدائی ماں) کا پتہ لگانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کردی۔ ان حیاتیاتی سائنس دانوں نے مختلف علاقوں کی 147 حاملہ خواتین کو تیار کیا کہ وہ غیر مولود بچہ کے مادے (placentas) انھیں بطور عطیہ دیں۔ اس مادہ پر وہ سالہا سال تک امریکہ کی ایر کنڈیشنڈ لیبارٹریوں میں تحقیق کرتے رہے جو برکلے میں واقع تھیں ۔ انھوں نے ان سے جسمانی نسیج (body tissue) کے نمونے نکالے اور ان پر طرح طرح سے تجربات کیے ۔ آخر کار انھوں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پہلی خاتون (first woman) یا مذہبی اصطلاح میں حوا (eve) کو دریافت کر لیا ہے۔ سائنس دانوں کے نزدیک یہ خاتون 200 ہزار سال پہلے زمین پر آباد تھی۔ وہ تمام انسانوں کی مشترک ماں ہے، وہ ہم سب کی تقریباً 10,00 ویں دادی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader