حیاتیاتی اخوت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نتیجہ انھوں نے جنینی شہادت (genetic evidence) کی بنیاد پر نکالا ہے جو مختلف براعظموں کے ساتھ سو آدمیوں کے خون کی خصوصی جانچ کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ تحقیق خالص سائنسی سطح پر یہ ثابت کر رہی ہے کہ تمام انسانی نسل، ظاہری فرق کے باوجود، ایک عظیم خاندان (Great family) کی حیثیت رکھتی ہے (صفحہ 43-44)۔ اسی نوعیت کی تحقیقات انگلینڈ اور فرانس وغیرہ میں بھی ہو رہی ہیں ۔ ان تحقیقات پر امریکہ کے کئی سائنسی جنرل میں مقالات شائع ہو چکے ہیں ۔ اس سلسلے میں دو مقالات کا خلاصہ نیو یارک (امریکہ ) کے انگریزی ہفت روزہ نیوز و یک (11 جنوری 1988) میں سات صفحات پر شائع ہوا ہے۔ ان تحقیقات کے مطابق جنینی شہادت (genetic evidence) نے اس قدیم خیال کی تردید کر دی ہے کہ انسانی نسل مختلف الگ الگ شاخوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ تمام اولاد آدم ایک ہی مشترک انسانی برادری کا حصہ ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) نے کہا: This idea is tremendously important. It makes us realize that all human beings, despite differences in external appearance, are really members of a single entity that's had a very recent origin in one place. There is a kind of biological brotherhood that's much more profound than we ever realized (p.39). یہ تصور حیرت ناک حد تک اہم ہے ۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ تمام انسان ، خارجی ظواہر میں فرق کے باوجود، حقیقتاً ایک ہی واحد نسل کے افراد ہیں جو کہ بہت قریبی عہد میں ایک مقام پر شروع ہوئی تھی۔ یہاں ایک قسم کی حیاتیاتی اخوت ہے جو کہ اس سے بہت زیادہ گہری ہے جواب تک ہم نے سمجھا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader