Urdu book · تعمیر کی طرف

تبدلی کا اصول

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

صلاحیت کا ثبوت دے سکیں کہ وہ ”گھاس“ پائیں اور اس کو ”دودھ“ کی صورت میں دنیا والوں کی طرف لوٹا سکیں۔ قرآن میں سچے انسانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں یعنی دوسروں کی طرف سے انھیں ایسے سلوک کا تجربہ ہوتا ہے جو ان کے اندر غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکانے والا ہو، مگر وہ غصہ اور انتقام کی آگ کو اپنے اندر ہی اندر بجھا دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو جو چیز لوٹاتے ہیں وہ معافی اور درگزر کا سلوک ہوتا ہے نہ کہ غصہ اور انتقام کا سلوک۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی قریبی دوست (حم السجدہ 41:34) اس آیت کے بارہ میں حضرت علی بن ابی طالبؓ نے فرمایا: أَمَرَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (السنن الکبریٰ للبیہقی، اثر نمبر 13299)۔ یعنی، اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں۔ کوئی جہالت کرے تو اس کو برداشت کریں۔ برائی کی جائے تو معافی اور درگزر کا طریقہ اختیار کریں جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچائے گا اور ان کے دشمن کو اس طرح جھکا دے گا کہ وہ ان کا قریبی دوست بن جائے۔ یہ وہی صفت ہے جس کو اوپر ہم نے کنورژن سے تعبیر کیا ہے۔ خدا پرست آدمی کی خدا پرستی اس کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ برائی کو بھلائی میں تبدیل کر سکے ۔ جو لوگ اسے گالی دیں، ان کے لیے وہ دعا کرے ۔ جو لوگ اس کے ساتھ غیر انسانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page