اصلاح کی طرف
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
کام کرنے والے افراد کے اندر دیانتداری کا مادہ نہ ہو تو سیاسی آزادی اور ٹیکنیکل قابلیت کے باوجود وہ ڈیم تیار نہ ہوسکے گا جو فقی الواقع ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ دیانت داری نہ ہونے کی صورت میں یہ ہوگا کہ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کر کے ایک ارب روپیہ ٹھیکیداروں اور انجینئروں اور افسروں کے ہاتھ میں دے گی۔ مگر وہ روپیہ کا ایک حصہ اپنی جیب میں رکھنے کی خاطر یہ کریں گے کہ وہ غیر معیاری لوہا استعمال کریں گے ۔ وہ ریت اور سیمنٹ کا تناسب غلط کر دیں گے ۔ وہ پیسہ بچانے کے لیے ہر چیز میں کمی کرتے رہیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بظاہر ڈیم تو بن کر تیار ہو جائے گا۔ مگر لوہا ہے اور سیمنٹ (RCC) کی تعمیر کے باوجود وہ مضبوط نہ ہوگا۔ بے پناہ خرچ اور سالوں کی منصوبہ بندی کے بعد اُدھر ڈیم بن کر کھڑا ہوگا اور اِدھر خبریں آنے لگیں گی کہ اس کا فلاں حصہ ٹوٹ گیا ہے ۔ اس کے فلاں حصہ میں شگاف ہو گیا ہے ۔ بے پناہ خرچ کے بعد ایک پل بن کر کھڑا ہوگا اور اگلے سال خبر ملے گی کہ وہ ٹوٹ کر گر پڑا۔ اس مہلک انجام سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ملک میں جس طرح سیاسی انقلاب اور صنعتی انقلاب برپا کیا گیا ہے، اسی طرح ملک میں ایک اخلاقی انقلاب برپا کیا جائے ۔ ملک کو جس طرح سیاسی بنیاد اور صنعتی بنیاد فراہم کی گئی ہے اسی طرح اس کے لیے اخلاقی بنیاد بھی فراہم کی جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ اخلاقی بنیاد کیا ہے اور اس کو ہم کس طرح ملک کے حق میں تعمیر کر سکتے ہیں۔ اخلاقیات (یا مارل فلاسفی) پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اب وہ ایک پیچیدہ فن بن گیا ہے مگر اس کی فنی تفصیلات اور اخلاقی فلاسفہ کے اختلافات سے قطع نظر، یہاں میں صرف اس کے سادہ عملی پہلو کو بیان کروں گا۔ جو کہ اخلاق کے معاملہ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader