تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
میں چھپا تھا جس کا عنوان یہ تھا: Can systemic changes provide the entire answer (کیا ڈھانچہ میں تبدیلی مکمل جواب ہے) مضمون نگار نے اس میں کہا تھا کہ ہماری آزادی پر چالیس سال بیت چکے ہیں ۔ ہم نے کئی اعتبار سے ترقی بھی کی ہے۔ مگر ہمارے مسائل ابھی زیادہ ہیں۔ اور مجموعی طور پر ہمارے مسائل ہماری ترقی سے بڑھے ہوئے ہیں: Our problems are many and serious, and on balance, appear to outweigh the progress. مسٹر ملگا وکر نے ان لوگوں کی بات کو نہیں مانا تھا جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے ڈھانچہ میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈھانچہ کو آخر کار آدمی ہی تو چلاتے ہیں۔ جب آدمی اچھے نہ ہوں تو ڈھانچہ کیسے اچھا کام کرے گا: In the final analysis, a system is only as good as those who operate it. مسٹر ملگا وکر کی اس بات سے مجھے اتفاق ہے۔ اس کو بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ مہاتما گاندھی نے ہمارے ملک کو سیاسی بنیاد (Political base) دی۔ اس کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں اقتدار آیا اور انہوں نے اس ملک کو صنعتی بنیاد (Industrial base) دی۔ اب ضرورت ہے کہ تیسرا ضروری کام کیا جائے ۔ اور وہ ہے اس ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) دینا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تیسری چیز (اخلاقیات) قومی زندگی میں فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تقریباً سبھی لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔ ملک کو اخلاقی بنیاد دینے کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ بلاشبہ یہ مشکل ترین کام ہے اور اس کے لیے نہایت صبر آزما جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ لمبی خاموش جدوجہد کے ذریعہ ہمیں یہ کرنا ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی بیداری (moral awareness) پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader