تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور بدلہ دے گا۔ قرآن کی اس آیت کا سننا تھا کہ فوراً حضرت عمر فاروق ٹھنڈے ہو گئے۔ بعد کے زمانہ میں انھوں نے اپنا اس وقت کا حال بتاتے ہوئے کہا: فَعَقَرْتُ، حَتَّى مَا تُقْتُلُنِی رَجُلَاً (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4454)۔ یعنی، میں زمین پر گر پڑا، میرے پاؤں میرا بوجھ نہ سنبھال سکے۔ اس واقعہ میں انسان عبدیت کے آخری مقام پر نظر آتا ہے۔ عبدیت یہ ہے کہ انسان خدا کے آگے ڈھ پڑے۔ حضرت عمر فاروق یہی انسان ثابت ہوئے۔ وہ خدا کا کلام سن کر بالکل لفظی طور پر زمین پر گر پڑے۔ اپنی رائے کو انھوں نے اپنے دماغ سے اس طرح نکال دیا جیسے کہ وہ ان کے دماغ میں کبھی تھی ہی نہیں ۔ یہ اعتراف حق کی بلند ترین مثال ہے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد کس طرح آدمی کو اس کے آگے جھک جانا چاہیے۔ سادہ زندگی اسلامی خلفاء کے زمانہ میں دولت اور اقتدار دونوں چیزوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا، اس کے باوجود خلفاء بالکل سادہ زندگی گزارتے تھے۔ اس کا اعتراف تمام مورخین نے کیا ہے۔ مانٹگمری واٹ (W. Montgomery Watt) نے لکھا ہے کہ مسلم خلفاء جواب ایک وسیع بادشاہت کے حکمراں تھے، وہ اب بھی مدینہ میں بے حد سادہ طریقہ سے رہتے تھے: The ruler of what was now a vast empire still lived a very simple life in medina, and had not so much as a bodyguard. (The Majesty That was Islam (1984)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader