Urdu book · تعمیر کی طرف

سادہ زندگی

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ کے حکمراں تھے، مگر جسم پر معمولی کپڑا ہوتا تھا، جس میں اکثر پیوند لگا رہتا تھا۔ پانی کی مشک کندھے پر رکھ کر چلتے تھے۔ پتھر کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر زمین پر سو جاتے تھے۔ معمولی کھانا کھاتے اور معمولی گھر میں رہتے۔ ایک بار احنف بن قیس ان سے ملنے کے لیے مدینہ آئے تو دیکھا کہ معمولی حالت میں ادھر اُدھر دوڑ رہے ہیں۔ احنف نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے، اس کو تلاش کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ امیر المومنین ہیں۔ آپ خود کیوں یہ زحمت اٹھا رہے ہیں۔ آپ نے کسی غلام کو حکم دے دیا ہوتا، وہ اس کام کو کر ڈالتا۔ حضرت عمر نے جواب دیا: وَأَيُّ عَبْدِ هوَ أَعْبَدُ مِنِّي (مسند الفاروق لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 370)۔ یعنی، کون ہے جو مجھ سے بڑھ کر غلام ہو۔ سلطنت کا حاكم ہونے کے باوجود اپنے کو عام آدمیوں سے ایک آدمی سمجھنا، اعلیٰ ترین حاکمانہ اخلاق ہے، مگر اس حاکمانہ اخلاق کی عملی مثال اسلامی تاریخ کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔ حضرت عمر فاروق کا زمانہ خلافت 644ء تک ہے۔ انھیں کے زمانہ میں فلسطین فتح ہوا۔ اس فتح کے موقع پر فلسطین کے مسیحی ذمہ داروں کی طلب پر، حضرت عمر نے مدینہ سے فلسطین کا سفر کیا۔ یہ سفر ایک عظیم سلطنت کے عظیم حکمراں کا تھا۔ مگر وہ اتنا سادہ تھا کہ اس کے آگے سادگی کا مزید تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عبد اللہ التل جو فلسطین کی جنگ (1948) میں شریک تھے ۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: خَطَرُ الْيَهُودِيَّةِ الْعَالَمِيَّةِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْمَسِيحِيَّةِ۔ یہ کتاب دار القلم (قاہرہ) سے 1964 میں شائع ہوئی ہے۔ عبد اللہ التل کو فلسطین کے ایک معبد میں ایک تاریخی مخطوطہ یونانی زبان میں لکھا ہوا ملا۔ یہ مخطوطہ جو قدیم زمانہ میں کسی عیسائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page