سادہ زندگی
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
نے لکھا تھا، اس میں حضرت عمر کے داخلہ فلسطین کا تذکرہ ہے۔ عبداللہ التل نے اس مخطوطہ کا عربی ترجمہ اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔ اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ جب بیت المقدس پر مسلم فوجوں کا حصار بڑھا تو 636ء میں وہاں کا بڑا پادری صفرونیوس شہر کی دیوار پر چڑھا۔ اس نے مسلم فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تم سے صلح کرنا چاہتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ صلح تمہارے امیر کے ہاتھ پر ہوگی۔ چنانچہ اس مضمون کا ایک خط مدینہ بھیجا گیا تا کہ امیر المومنین فلسطین آئیں اور اہل فلسطین سے صلح کا معاملہ طے کریں۔ عمر فاروق مدینہ سے بیت المقدس جانے کے لیے نکلے۔ مگر حال یہ تھا کہ ان کے ساتھ صرف ایک سواری اور ایک غلام تھا۔ جب وہ شہر سے باہر آئے تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اور اگر ہم دونوں سواری پر بیٹھ جائیں تو ہم اس کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے۔ اس لیے ہم لوگ تین باری مقرر کرلیں۔ چنانچہ انھوں نے راستہ اس طرح طے کیا کہ ایک بار عمر سواری پر بیٹھتے اور غلام پیدل چلتا۔ اس کے بعد غلام سواری پر بیٹھتا اور عمر پیدل چلتے۔ اور پھر دونوں پیدل چلتے اور سواری خالی رہتی۔ اس طرح وہ سفر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ قدس کے قریب پہنچ گئے۔ اتفاق سے اس وقت غلام کی باری تھی۔ غلام نے سواری پر بیٹھ کر چلنے سے انکار کیا اور چاہا کہ آخری مرحلہ میں شہر میں داخلہ اس حال میں ہو کہ سواری پر عمر فاروق بیٹھے ہوئے ہوں مگر عمر فاروق اس پر راضی نہیں ہوئے۔ اور وہ قدس کے دروازے پر اس حال میں پہنچے کہ غلام سواری پر تھا اور عمر فاروق پیدل چل رہے تھے، عمر فاروق کو اس حال میں دیکھ کر شہر کے پادریوں نے دروازہ کھول دیا اور عمر کے ہاتھ پر صلح کرلی۔ صلح نامہ کی تکمیل کے بعد حضرت عمر نے ایک مختصر تقریر کی جس میں کہا کہ اے اہل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader