Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسطین جو ہمارے لیے ہے وہ تمہارے لیے ہے اور جو ہمارے لیے نہیں وہ تمہارے لیے بھی نہیں (يَا أَهْلَ إِيْلِيَاء، لَكُمْ مَا لَنَا وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَيْنَا)۔ عمر فاروق کا یہ سفر تمام دنیا کے حکمرانوں کے لیے بلاشبہ آخری اور کامل ترین نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ احترام انسانیت خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں حضرت عمر وبن العاص مصر کے گورنر تھے۔ انھوں نے ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کرائی۔ اس دوڑ میں گورنر کے بیٹے کا گھوڑا بھی شریک تھا۔ مگر جب دوڑ ہوئی تو ایک مصری (غیر مسلم) کا گھوڑا آگے بڑھ گیا۔ مصری نے فتح کے جوش میں کوئی ایسا جملہ کہا جو گورنر کے صاحبزادے (محمد بن عمرو بن العاص) کو برا معلوم ہوا اور انھوں نے مذکورہ مصری کو کوڑے سے مار دیا، مارتے ہوئے ان کی زبان سے نکلا: خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْرَمِينَ (یلو، اور میں شریفوں کی اولاد ہوں)۔ حضرت انس بن مالک اس قصہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مصری (غیر مسلم) مصر سے چل کر مدینہ پہنچا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق سے شکایت کی کہ گورنر کے لڑکے نے اس طرح اس کو کوڑے سے مارا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو۔ اور فوراً اپنے ایک خاص آدمی کو مصر بھیجا کہ عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے محمد بن عمر و جس حال میں ہوں اسی حال میں ان کو لے کر مدینہ آؤ۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو حضرت عمر نے فرمایا: أَيْنَ الْمِصْرِيُّ، دُونَكَ الدِّرَّةَ فَاضْرِبْ بِهَا ابْنَ الأَكْرَمَيْنِ (مصری کہاں ہے۔ یہ کوڑا لو اور اس سے شریف زادہ کو مارو)۔ اس کے بعد مصری نے کوڑا لیا اور گورنر مصر کے سامنے ان کے صاحبزادہ کو مارنا شروع کیا۔ وہ مارتا رہا، یہاں تک کہ ان کو زخمی کر دیا۔ حضرت عمر درمیان میں کہتے جاتے تھے کہ شریف زادہ کو مارو جب وہ خوب مار چکا تو حضرت عمر فاروق نے کہا کہ ان کے والد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page