Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

عمر بن العاص کے سر پر بھی مارو ، کیوں کہ خدا کی قسم ان کے بیٹے نے صرف باپ کی بڑائی کے زور پر تم کو مارا تھا (فَواللّهِ مَا ضَرَبَكَ ابْنُهُ إِلا بِفَضْلِ سُلْطَانِهِ)۔ مصری نے کہا کہ اے امیر المومنین، جس نے مجھ کو مارا تھا اس کو میں نے مارلیا۔ اس سے زیادہ کی مجھے حاجت نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: خدا کی قسم اگر تم ان کو بھی مارتے تو ہم تمہارے اور ان کے درمیان حائل نہ ہوتے، یہاں تک کہ تم خود ہی ان کو چھوڑ دو۔ پھر آپ نے عمر بن العاص سے مخاطب ہو کر فرمایا: يَا عَمْرُو ، مَتَى اسْتَعْبَدْتُمُ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْهُمْ أُمَّهَاتُهُمْ أَحْرَارًا (اے عمر و ، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا) ابن جوزی، سیرۃ عمر بن الخطاب ۔ یہ واقعہ انسانی احترام اور انسانی برابری کی آخری اعلیٰ مثال ہے۔ اس واقعہ نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہر قسم کے فرق کو عملاً ختم کر دیا۔ اس نے انسان عدل وانصاف کی ایسی نظیر قائم کردی جس کے آگے انسانی عدل وانصاف کا کوئی اور درجہ نہیں۔ بے غرضی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں قحط پڑا اور لوگ سخت پریشان ہو گئے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ نہ گھبراؤ۔ اللہ جلد ہی تمھارے لیے کشادگی کی صورت پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ شام سے آیا، اس میں ایک ہزار اونٹ تھے اور سب کے سب گیہوں اور کھانے کی چیزوں سے لدے ہوئے تھے۔ یہ خبر مدینہ میں پھیلی تو شہر کے تاجر عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے ۔ انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آئے ۔ ان کے پاس ایک چادر تھی جس کو وہ اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے ہوئے تھے کہ اس کا ایک سرا سامنے کی طرف لٹک رہا تھا اور دوسرا پیچھے کی طرف۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page