بے غرضی
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگ کیوں آئے ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ تاجروں نے کہا: ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ کے پاس ایک ہزار اونٹ گیہوں اور غذائی سامان آیا ہے۔ ہم ان کو خریدنا چاہتے ہیں۔ آپ ہمارے ہاتھ یہ غذائی سامان بیچ دیں تا کہ ہم اس کو مدینہ کے ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اندر آؤ اور گھر میں بیٹھ کر بات کرو۔ وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ غذائی اشیاء کے ایک ہزار ڈھیر گھر کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔ اب بات چیت شروع ہوئی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری شام کی خریداری پر تم مجھ کو کتنا زیادہ نفع دو گے ۔ انھوں نے کہا: دس درہم پر بارہ درہم۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے ۔ انھوں نے کہا: دس درہم پر چودہ درہم ۔ حضرت عثمان نے کہا مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا اچھا دس درہم پر پندرہ درہم۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے ۔ جب کہ مدینہ کے جتنے تاجر ہیں سب یہاں جمع ہیں ۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم مل رہا ہے۔ پھر کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس کا دس گناہ بدلہ ہے (انعام (160) تو اے مدینہ کے تاجر و، گواہ رہو کہ میں نے یہ تمام غذائی سامان اللہ کے لیے شہر کے ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیا (العبقریات الاسلامیہ، صفحہ 572)۔ یہ واقعہ خدا کے وعدہ پر یقین کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر اسی قسم کا یقین و اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کا یقین و اعتماد پیدا ہو جائے وہ اغراض ومصالح سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اس کے حوصلے اتنا زیادہ بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل چیز نہیں رہتی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader