Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

عوام اور حاکم کے درمیان قانونی برابری حضرت علی بن ابی طالب اسلام کے چوتھے خلیفہ تھے ۔ انھیں غیر معمولی اقتدار حاصل تھا، مگر وہ لوگوں کے درمیان ایک عام انسان کی طرح رہتے تھے ۔ نہ ان کا معیارِ زندگی دوسروں سے مختلف تھا اور نہ ان کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قانونی حقوق حاصل تھے۔ ترمذی ، حاکم اور ابو نعیم نے حضرت علی بن ابی طالب کا ایک واقعہ اس طرح نقل کیا ہے۔ حضرت علی کے پاس ایک زرہ تھی جو اتفاق سے کھوئی گئی ۔ ایک روز کوفہ کے بازار کی طرف گئے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک نصرانی زرہ بیچ رہا ہے۔ قریب جا کر دیکھا تو وہی زرہ تھی جو ان سے کھوئی گئی تھی۔ حضرت علی اس وقت ممالکِ اسلامی کے حکمراں تھے ۔ وہ چاہتے تو اسی وقت زرہ پر قبضہ کر سکتے تھے ۔ مگر انھوں نے اپنے آپ کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا۔ انھوں نے نصرانی سے کہا کہ یہ زرہ میری ہے۔ تم اس کو لے کر قاضی کے پاس چلو۔ وہ میرے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اس وقت مسلمانوں کے قاضی، قاضی شریح تھے ۔ چنانچہ دونوں بازار سے چل کر قاضی شریح کے یہاں پہنچے۔ شریح نے بحیثیت قاضی کے پوچھا کہ امیر المومنین ، آپ کیا کہتے ہیں ۔ حضرت علی نے کہا کہ یہ زرہ میری ہے، وہ مجھے واپس دلائی جائے ۔ شریح نے نصرانی سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو ۔ اس نے کہا کہ امیر المومنین غلط بیانی کر رہے ہیں ، یہ زرہ میری ہے۔ قاضی شریح نے حضرت علی سے کہا کہ محض آپ کے دعوے کی بنا پر میں ایسا نہیں کر سکتا کہ زرہ اس سے لے کر آپ کو دیدوں ۔ آپ اپنے دعوے کے حق میں ثبوت لائیے۔ حضرت علی نے کہا کہ شریح کا مطالبہ درست ہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے حق میں دو گواہ پیش کیے ۔ ایک ، اپنے غلام قنبر کو، اور دوسرے، اپنے لڑکے حسن کو۔ قاضی شریح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page