Urdu book · تعمیر کی طرف

تعمیر کی طرف

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کہا کہ میں قنبر کی گواہی کو تو مان رہا ہوں ، مگر میں حسن کی گواہی کو نہیں مانتا۔ حضرت علی نے کہا کہ تم حسن کی گواہی نہیں مانتے ، حالانکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔ قاضی شریح نے کہا کہ وہ الگ چیز ہے۔ دنیوی معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ والد کے حق میں اولاد کی گواہی معتبر نہیں۔ حضرت علی خلیفہ تھے اور وہ قاضی کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے تھے۔ مگر انھوں نے قاضی کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ اور زرہ کے بارہ میں اپنا مطالبہ واپس لے لیا۔ نصرانی یہ دکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ چیخ اٹھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ پیغمبروں کے احکام ہیں کہ امیر المومنین ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں آئے اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ یہ زرہ واقعتاً علی کی ہے۔ ایک بار وہ علی کے اونٹ سے گر گئی تھی تو میں نے اس کو اٹھا لیا۔ اب حضرت علی نے وہ زرہ اسی شخص کو دے دی اور اس کو مزید سات سو درہم عطا کیے۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو کر حضرت علی کے ساتھ رہا یہاں تک کہ صفین کے معرکہ میں شہید ہو گیا (حياة الصحابہ، جلد اول، صفحہ 235-234)۔ یہ واقعہ اس اصول کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ حکمران افراد اور عام انسان دونوں قانون کی نگاہ میں برابر ہیں۔ قانون کی عدالت میں دونوں کو یکساں حاضر ہونا چاہیے اور دونوں کے اوپر قانون کا فیصلہ یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ حقیقت پسندی حضرت حسن حضرت علی کی شہادت کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے ۔ وہ اسلامی تاریخ کے پانچویں خلیفہ تھے۔ انھیں تمام شرعی اور اخلاقی اصولوں کے مطابق خلافت پر قائم رہنے کا حق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page