Urdu book · تعمیر کی طرف

حقیقت پسندی

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل تھا۔ مگر جب انہیں خلافت ملی تو صورت حال یہ تھی کہ حضرت امیر معاویہ جو اس وقت شام کے حاکم تھے، انھوں نے خلافت سے باقاعدہ بغاوات کر دی۔ خون عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر انھوں نے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ کر لیا۔ حضرت حسن بن علی نے حالات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ چالیس ہزار کی فوج ان کے ساتھ ہے اسی طرح حضرت امیر معاویہ کے ساتھ بھی تقریباً اتنے ہی آدمی تھے ۔ یہ دونوں فوجیں جوش وجنبہ سے بھری ہوئی تھیں اور ایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے بے قرار تھیں ۔ مگر حضرت حسن نے سوچا کہ یہ دونوں کے دونوں مسلمان ہیں۔ جنگ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں لڑیں۔ وہ قیمتی افراد جو اسلام کے جھنڈے کے نیچے اس لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ دنیا سے شرک کا خاتمہ کریں وہ خود اپنے آپ کو اور اسی کے ساتھ اسلامی تاریخ کو ختم کر ڈالیں گے۔ حضرت حسن کی حیثیت جائز خلیفہ اسلام کی تھی۔ جب کہ امیر معاویہ کی حیثیت یقینی طور پر باغی کی تھی مگر حضرت حسن نے بجاطور پر یہ اندازہ لگایا کہ حضرت امیر معاویہ کسی قیمت پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ وہ ہر حال میں لڑائی کو جاری رکھیں گے خواہ اس کا نتیجہ مسلم سپاہیوں کی عام بربادی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ حضرت حسن نے خود اپنے آپ کو جھکانے پر راضی کر لیا۔ مسلمانوں کو باہمی قتل وخون سے بچانے کے لیے انھوں نے ایک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔ یہ حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہاں انسان حقیقت پسندی کی اعلیٰ ترین سطح پر نظر آتا ہے، وہ سطح جہاں انسان اپنے آپ کو حذف کرکے سوچ سکتا ہے۔ حضرت حسن نے اپنے آپ کو حذف کرکے سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو راضی کر سکے جس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page