عدل وانصاف
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
عدل وانصاف حضرت عمر بن عبدالعزیز (101-62ھ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا: تمھارے خلیفہ کا بھی روز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لیے ایک سوسپاہی مقرر تھے، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سرکاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا: میری حفاظت کے لیے قضا و قدر ہی کافی ہے۔ یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس تک پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ سمرقند کے باشندوں کا ایک وفد آیا۔ اس نے ایک فوجی سردار قتیبہ بن مسلم بابلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدہ کے مطابق انھوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کر دیں ۔ لہٰذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ سمرقند کی فتح حضرت عمر بن عبدالعزیز سے پہلے ہوئی تھی ۔ اور اب اس پر سات سال گزر چکے تھے۔ مگر آپ نے انصاف کے تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمرقند کے لوگوں کے مقدمہ کی سماعت کے لیے ایک خصوصی قاضی مقرر کریں۔ عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمیع بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ دونوں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ آخر میں قاضی نے سمرقند والوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ مسلمانوں کی فوج سمرقند کو چھوڑ کر باہر آجائے اور اہلِ سمرقند کو ان کا قلعہ اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں۔ اس کے بعد اسلامی قاعدہ کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader