Urdu book · تعمیر کی طرف

عدل وانصاف

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمرقند چھوڑ کر نکل آئے۔ تاہم اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔ سمرقند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر با اصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسے بے لاگ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لیے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے: خوش آمدید، ہم آپ کے مطیع و فرماں بردار ہیں۔ مرحبا ( سمعنا واطعنا، فتوح البلدان للبلاذری )۔ یہ واقعہ عدل وانصاف کا جو نمونہ پیش کر رہا ہے۔ اس کی مثال ساری تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ اس واقعہ میں عدل وانصاف کا اصول اپنے آخری اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے۔ عدل بلا شبہ انسانی زندگی کی بلند ترین قدر ہے ، اور یہ واقعہ اس قدر کے اعتراف کی بلند ترین عملی مثال ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page