تعمیر کی طرف
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ میں جھانک کر دیکھنے کا مزاج پیدا کریں۔ وہ ماضی کی باتوں کو بھلائیں اور مستقبل کے لحاظ سے اپنی منصوبہ بندی کریں۔ اس کے ساتھ ایک اور چیز ہے جو لیڈرشپ کی سطح پر مطلوب ہے۔ 1947 سے پہلے ہمارے لیڈروں نے ”انگریز ہٹاؤ“ کا نعرہ دیا تھا۔ اس کے بعد مسز اندرا گاندھی نے ”غریبی ہٹاؤ“ کا نعرہ دیا۔ مسٹر راجیو گاندھی نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے 79 ویں اجلاس (اپریل 1988) میں ”بےکاری ہٹاؤ“ کا نعرہ دیا ہے۔ مگر محض اس قسم کے نعروں سے ملک کا مسئلہ نہ اب تک حل ہوا ہے اور نہ آئندہ حل ہونے والا ہے۔ اصلی نعرہ جس سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے، وہ ہے: اپنے آپ کو ہٹاؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو سیاسی اعتبار سے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیڈر اگر ڈیگال بننے کا حوصلہ کریں تو سارے مسائل چند برسوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ نعروں کی صورت میں وہ سو برس میں بھی حل ہونے والے نہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قوم کو زندہ کرنے کے لیے فرد کو اپنے آپ کو ہلاک کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے چارلس ڈیگال (1970-1890) نے اس کی ایک مثال پیش کی ہے۔ اور ہندوستان کو آج اپنے حالات کے اعتبار سے اسی قسم کے ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ ڈیگال 1958 میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے۔ اس وقت افریقہ میں فرانس کے تقریباً ایک درجن مقبوضات تھے جن میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔ خاص طور پر الجزائریا میں یہ تحریک بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔ فرانس نے اسکو کچلنے کے لیے تقریباً 25 لاکھ لوگوں کو سزائیں دیں یا قتل کر دیا۔ اس کے باوجود الجزائریا میں آزادی کی تحریک دبتی ہوئی نظر نہیں آتی تھی۔ یہ صورتِ حال چارلس ڈیگال کے لیے سخت تشویش ناک بن گئی۔ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (1984) کے الفاظ میں، الجزائریا کی جنگ کے مسائل ان کے لیے اس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader