تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
چرچاہرتاہے۔ گھر کے اندرانسانی خیرخواہی کی باتیں نہیں ہوتیں۔ بلکہ اپنے لوگوں کو اپنا، اوردوسرے لوگوں کوغیرسمجھنے کا ماحول ہوتاہے۔ گھر کے اندر جن باتوں کاچرچاہوتا ہے، وہ ہیں ــ کھانا کپڑا، روپیہ پیسہ، بزنس اورجاب، وغیرہ۔ گھر میں دینی کتاب پڑھ کر سنانا بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ لیکن اس کوموثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گھر کے اندر اس کے موافق ماحول موجود ہو۔ کتاب پڑھنے سے پہلے، اور کتاب پڑھنے کے بعد گھر کے اندر وہی ماحول ہو جو کتاب میں بتایاگیاہے۔ کسی گھرکو دین دار گھر بنانا اسی وقت ممکن ہے، جب کہ اس کو پوری سنجیدگی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ گھر کا ماحول موافق دین بنائے بغیر گھر کے اندر دینی کتاب پڑھ کر سنانا گویا ہاتھی کے دم میں پتنگ باندھنا ہے۔ اس طرح کے کسی عمل سے گھر کے سرپرستوں کی ذمے داری ادا نہیں ہوسکتی۔ وقفۂ تعمیر کائنات خدا کی خاموش کتاب ہے۔ وہ ربانی حقیقتوں کو تمثیل کے روپ میں بیان کرتی ہے۔ آدمی اگر کائنات کی خاموش زبان کو سن سکے تو وہ اس کے لیے معرفت کا عظیم ترین کتب خانہ بن جائے۔ درخت کودیکھیئے۔ درخت زمین سے نکلتا ہے تو وہ کمزور پودے کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے تنے میں ابھی طوفان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس وقت درخت کیا کرتاہے۔ وہ سراپا نرمی بن جاتا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں تو وہ ان کے مقابلہ میں اکڑتا نہیں۔ بلکہ ہوا کا جھونکا اس کو جس طرف لے جانا چاہتا ہے، وہ اسی طرح چلا جاتا ہے۔ وہ، حالی کی زبان میں، ’’چلوتم ادھر کو ہوا ہو جِدھر کی‘‘ کی تصویر بن جاتا ہے۔ مگر اسی پودے کو 25 سال بعد دیکھئے تو وہ بالکل دوسری تصویر پیش کر رہا ہوگا۔ اب وہ اپنے موٹے تنہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتاہے۔ اب جھکنے کا لفظ اس کی ڈکشنری سے خارج ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ہواؤں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader