Urdu book · تربیتِ اولاد

ایک وراثت یہ بھی ہے

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ذاتی طور پر اپنا کاروبار چلائے۔ اس طرح ہمارے والد کی روح کو سکون پہنچے گا، اور مجھے یقین ہے کہ اس میں ہر ایک کے لیے زیادہ برکت ہوگی۔ تینوں بھائیوں نے کہا کہ ہم تو سراپا آپ کے احسان مند ہیں۔ اس لیے آپ جو بھی فیصلہ کر دیں وہ ہم کو منظور ہے۔ مختصر گفتگو کے بعد یہ طے ہوا کہ قرعہ اندازی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ چنانچہ اسی وقت قرعہ کے ذریعہ ہر بھائی کو ایک ایک کاروبار دے دیا گیا۔ اب چاروں بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ ہر ایک اپنے بچوں کو لے کر اپنے اپنے کام میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ چاروں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ اچھے تعلقات ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ چاروں نے الگ الگ اپنے مکانات بنا لیے ہیں۔ مگر رحیم بخش اب بھی اسی طرح سب کے بڑے بھائی‘‘ ہیں جیسے وہ پہلے بڑے بھائی تھے۔ ایک بھائی جو بات کہہ دے اس کو دوسرا بھائی کبھی نہیں ٹالتا۔ ایک گھر میں کوئی ضرورت پیش آ جائے تو چاروں گھروں کی عورتیں اور بچے مل کر اس کو اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ ہر ایک کا اپنا کام ہو۔ اکثر باپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی اولاد کے لیے سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ وہ ان کے لیے مال اور جائیداد چھوڑ کر اس دنیا سے جائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ خوش نصیب اولاد وہ ہے جس کے باپ نے اس کے لیے با اصول زندگی کی وراثت چھوٹی ہو ۔ وہ اپنی اولاد کو یہ سبق دے کر دنیا سے گیا ہو کہ اپنی محنت پر بھروسہ کرو، لوگوں سے الجھے بغیر اپنا کام کرو۔ اپنے واجبی حق پر قناعت کرو۔ حال کے فائدوں سے زیادہ مستقبل کے امکانات پر نظر رکھو۔ خوش خیالیوں میں گم ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرو۔ مادی وراثت سے زیادہ بڑی چیز اخلاقی وراثت ہے۔ مگر بہت کم باپ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page