تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی محرومی ہے۔ حدیث کے مطابق، یہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو تباہ کرنا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3966)۔ مزید یہ کہ یہ اہل وعیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے، وہ موت کے بعد اُس سے اس طرح جدا ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ وہ اُس کو کبھی نہیں ملتے۔ پرچہ امتحان یوپی کے ایک مسلمان دہلی میں آکر آباد ہوئے۔ انھوں نے پراپرٹی کا بزنس کیا۔ انھوں نے اس بزنس میں کافی دولت کمائی۔ مگر اُن کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ ایک بار ان کی ماں دہلی آئیں۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کا بیٹا دہلی میں ایک بڑے گھر میں رہتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کے پاس ہے، مگر شادی کو کافی عرصہ گزرنے کے باوجود اُن کے یہاں اولاد نہیں ہوئی۔ اُن کی ماں اس بات پر کافی پریشان ہوئیں ۔ وہ اکثر کہتی تھیں ہائے میرے بیٹے کی دولت کون لے گا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن میں اولاد کو فتنہ کیوں کہا گیا ہے (64:15)۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے بیٹے کو اپنی ذات کی توسیع (extension) سمجھتے ہیں۔ اُن کو یقین ہوتا ہے کہ اُن کی کمائی ان کے بعد ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اپنے بیٹے کی صورت میں بالواسطہ طور پر وہ اُن کو حاصل رہے گی۔ اولاد کے بارے میں اِسی تصور کی بنا پر لوگوں کے لیے اولاد ایک فتنہ بن جاتی ہے ۔ اس تصور کے تحت جو ذہن بنتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی موت کی سنگینی سے غافل ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد کے احوال پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ موت اور موت کے بعد کی حقیقتوں کے معاملے سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ اولاد کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اُس کے ذریعے نسلِ انسانی کا بقاو تسلسل جاری رہتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader