Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ جہاں تک دولت کی بات ہے، وہ باپ کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے، اور بیٹے کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ۔ دولت کو اگر اس ذہن کے تحت دیکھا جائے تو دولت کبھی مسئلہ نہ بنے۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کسی والد کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے بہترین تحفہ یہ ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعے اس کو اچھا انسان بنائے۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952) ہاتھی کی دم میں پتنگ اکثر والدین مجھ سے پوچھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بچوں کی دینی تربیت کے لیے کیا کیا جائے۔ میرا جواب ہمیشہ ایک رہتا ہے—بچوں کی تربیت سے پہلے خود اپنی تربیت کیجیے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کے بگاڑ کا اصل سبب خارجی ماحول نہیں ہے، بلکہ گھر کا داخلی ماحول ہے۔ گھر کا داخلی ماحول کون بناتا ہے، یہ والدین ہیں جو گھر کا داخلی ماحول بناتے ہیں۔ جب تک گھر کے داخلی ماحول کو حقیقی معنوں میں دینی، یعنی آخرت پسندانہ ماحول نہ بنایا جائے، بچوں کے اندر کوئی اصلاح نہیں ہوسکتی۔ موجودہ زمانے کا اصل فتنہ مال ہے۔ آج کل ہر آدمی زیادہ سے زیادہ مال کما رہا ہے۔ اس مال کا مصرف والدین کے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے گھر کے اندر ہر قسم کی راحت کے سامان اکٹھا کرنا، اور بچوں کی تمام مادی خواہشوں کو پورا کرنا۔ موجودہ زمانے میں یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ اس معاملے میں شاید کسی گھر کا کوئی استثنا نہیں، خواہ وہ بے ریش والوں کا گھر ہو، یا باریش والوں کا گھر۔ والدین کے اس مزاج نے ہر گھر کو مادہ پرستی کا کارخانہ بنا دیا ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر مادہ پرستانہ ذہن بنانے کے امام بنے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے آخرت کی جنت سے بھی محروم نہ رہیں۔ اسی مزاج کے بارے میں ایک اردو شاعر نے کہا تھا—رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page