تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ صرف ایک خوش خیالی ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ ”ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنا“ ہے۔ موجودہ زمانے کے والدین ایک طرف، اپنے بچوں کو ”مادی ہاتھی“ بناتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ چاہتے ہیں کہ اس ہاتھی کی دم میں دین کی پتنگ باندھ دی جائے۔ مگر ایسی پتنگ کا حال صرف یہ ہونے والا ہے کہ ہاتھی ایک بار اپنی دم کو جھٹکا دے اور یہ پتنگ اُڑ کر بہت دور چلی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو دین دار، یعنی آخرت پسند بنانا چاہتے ہیں تو وہ اُس کی قیمت ادا کریں، ورنہ وہ فرضی طور پر اِس قسم کی منافقانہ بات کرنا بھی چھوڑ دیں۔ ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ آج کل عام طور پر یہ حال ہے کہ ہر گھر میں ایک طرف اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کی تعریف کی جاتی ہے، اُن کا ذکر ہمیشہ مثبت انداز میں کیا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جب بھی دوسروں کا چرچا کیا جاتا ہے تو وہ تنقیص کے انداز میں ہوتا ہے۔ اپنوں کے بارے میں مثبت باتوں کا چرچا اور دوسروں کے بارے میں منفی باتوں کا چرچا، یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید ہی کوئی گھر اس سے خالی ہو۔ گھر کے اندر سماج کے شہری بنتے ہیں، لیکن مذکورہ کلچر نے گھر کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنے سماج کے لیے اچھے شہری سپلائی کرے۔ ہر گھر میں ایسے عورت اور ایسے مرد بن کر تیار ہو رہے ہیں جو اپنوں کے بارے میں مثبت رائے اور دوسروں کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جن کو اپنوں سے محبت ہے اور دوسروں سے نفرت، جو اپنوں کے بارے میں روادار (tolerant) ہیں اور دوسروں کے بارے میں وہ غیر روادار (intolerant) بنے ہوئے ہیں، جن کے اندر اپنوں کو دینے کا ذہن ہے اور دوسروں سے صرف لینے کا ذہن، جو اپنوں کو برتر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو کم تر، جو اپنوں کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کی ترقی دیکھ کر اُنھیں کوئی خوشی نہیں ہوتی، جو اپنوں کی تکلیف سے فکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader