Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

مند ہوتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر انہیں کوئی فکر مندی لاحق نہیں ہوتی، وغیرہ۔ اس صورتِ حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اب سماجی اقدار (social values) کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اب ایک ہی چیز ہے جو ہر ایک کا واحد کنسرن (sole concern) بنی ہوئی ہے، اور وہ ہے ذاتی مفاد (self-interest)۔ اس صورتِ حال نے ہر ایک کو خود غرض اور استحصال پسند بنا دیا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ اس کی اصلاح جلسوں اور تقریروں کے ذریعے نہیں ہو سکتی، اس کی اصلاح کا طریقہ صرف یہ ہے کہ گھر والے اپنے گھر کے ماحول کو درست کریں۔ گھر کے ماحول کو درست کیے بغیر اس سنگین صورتِ حال کی اصلاح ممکن نہیں۔ بچوں کا قبرستان ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہمارے مشن سے جڑے ہوئے تھے۔ اُس وقت ان کے یہاں اولاد نہیں تھی، پھر ان کے یہاں بچے پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے مشن سے دور ہو گئے۔ ایک عرصے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے دعوتی کام کو کیوں چھوڑ دیا۔ انھوں نے کہا بچوں کی ذمے داریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب وقت نہیں ملتا۔ موجودہ زمانے میں یہی کم وبیش ہر آدمی کا حال ہے۔ لوگوں کے لیے ان کے بچے ان کا قبرستان بنے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی کے لیے اس کے بچے اس کا واحد کنسرن ہیں۔ ہر آدمی اپنا پیسہ، اپنا وقت، اپنی انرجی، غرض جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ اس کو اپنے بچوں کے لیے وقف کیے ہوئے ہے۔ دوسروں کے لیے اس کے پاس صرف زبانی ہمدردی (lip service) ہوتی ہے، اور اپنی اولاد کے لیے حقیقی عمل، حتیٰ کہ خدا کے لیے یا خدائی کام کے لیے بھی اس کے پاس صرف الفاظ ہوتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ آج جس شخص سے ملاقات کیجیے، وہ اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہوگا، لیکن وہ خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page