Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے مستقبل کے لیے فکر مند دکھائی نہ دے گا۔ یہ عین وہی صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دوسرے کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت کو کھودینا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3966)۔ اس معاملے کا سب سے زیادہ اندوہناک پہلو یہ ہے کہ لوگ محبتِ اولاد میں اتنا زیادہ غرق ہیں کہ وہ اس حدیثِ رسول کا مصداق بن گئے ہیں: حُبُّکَ الشَّیْءَ يُعْمِی وَيُصِمُّ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5130)۔ یعنی کسی چیز سے تمہاری محبت تم کو اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔ اولاد کی محبت ان پر اتنا زیادہ غالب ہے کہ وہ یہ بھی سوچ نہیں پاتے کہ ہم اولاد کے مستقبل کو بنانے کی فکر میں خود اپنے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔ اس بنا پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے وقت نہیں۔ مثلاً دینی مطالعہ، دعوتِ ورک، آخرت کو سامنے رکھ کر اپنے معاملات کی منصوبہ بندی، وغیرہ۔ نظر کی خریداری ایک صاحب مجھ کو اپنے گھر لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا گھر مختلف قسم کے سامانون سے بھرا ہوا ہے۔ پورا گھر ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور (departmental store) معلوم ہوتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں اتنا زیادہ سامان کیوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب میں بازار جاتا ہوں اور وہاں میں کسی چیز کو دیکھتا ہوں، وہ مجھ کو پسند آ جاتی ہے تو میں اس کو خرید لیتا ہوں۔ یہ نظر کی خریداری ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ چیزوں کو دیکھ کر خریدتے ہیں، خواہ وہ ان کے استعمال میں آنے والی ہوں یا نہ ہوں۔ خریداری کی دو قسمیں ہیں - نظر کی خریداری اور ضرورت کی خریداری۔ نظر کی خریداری وہ ہے جو دیکھ کر کی جائے۔ اس کے برعکس، ضرورت کی خریداری یہ ہے کہ آپ کو ایک چیز کی ضرورت ہو، اس کو حاصل کرنے کے ارادے سے آپ گھر سے نکلیں اور جہاں وہ چیز ملتی ہو، وہاں جا کر اس کو خرید لیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page