Urdu book · تربیتِ اولاد

تربیتِ اولاد

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

نظر کی خریداری دوسرے الفاظ میں بے مقصد خریداری ہے۔ وہ اپنے وقت اور اپنے مال کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مال کی تبذیر (17:26) بتایا گیا ہے۔ یعنی مال کو بلا ضرورت بکھیرنا۔ ضرورت کی خریداری ایک ذمہ دارانہ فعل ہے، اور نظر کی خریداری ایک غیر ذمہ دارانہ فعل۔ کسی مرد یا عورت کے پاس جو مال ہے، وہ اللہ کا دیا ہوا ہے، وہ اللہ کی ایک امانت ہے۔ جو عورت یا مرد مال کو مسرفانہ طور پر خرچ کریں، وہ خدا کی دی ہوئی امانت میں خیانت کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کام کرتے ہیں، جس کے لیے آخرت میں ان کی سخت پکڑ ہوگی۔ مال کو جائز ضرورت پر خرچ کرنا ثواب کا کام ہے۔ اس کے برعکس، اگر مال کو غیر ضروری مددوں میں خرچ کیا جائے تو وہ خرچ کرنے والے کے لیے ایک گناہ بن جاتا ہے۔ مال کو خرچ کرنے کے معاملے میں انسان کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ پیمپرنگ کا نقصان میرے والد فرید الدین خاں کا انتقال دسمبر 1929ء میں ہوا۔ اُس وقت میری عمر تقریباً 6 سال تھی۔ میرے والد اپنے تمام بچوں میں مجھ کو سب سے زیادہ مانتے تھے۔ وہ میرے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرتے تھے۔ اس بنا پر میں بہت شوخ ہو گیا تھا اور اکثر طفلانہ شرارتیں کیا کرتا تھا۔ شیخ محمد کامل میرے پھوپھاتھے۔ وہ اس کو دیکھ کر غصہ ہوتے تھے۔ وہ میرے والد سے کہتے تھے کہ ـــ تم اپنے بیٹے کو خراب کر ڈالو گے۔ لیکن بچپن میں میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ میری والدہ زیب النساء (وفات 1985ء) بتاتی تھیں کہ والد کی زندگی میں میں بہت بولتا تھا، لیکن جب والد کا انتقال ہو گیا تو اچانک میں بالکل بدل گیا۔ میری شوخیاں ختم ہو گئیں۔ اب میں خاموش رہنے لگا۔ یہ میری زندگی کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ اگر میرے باپ زیادہ دن تک زندہ رہتے تو یقینی طور پر میں اُسی قسم کا ایک نوجوان بن جاتا جس کو لاڈ پیار سے بگڑا ہوا بچہ (spoilt and pampered child) کہا جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page