تربیتِ اولاد
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ بعد کو میری زندگی میں جو حقیقت پسندی اور سنجیدگی آئی ، وہ براہِ راست طور پر میری یتیمی کا نتیجہ تھی۔ ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو ابتدائی طور پر وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن یہ مدت عارضی ہوتی ہے۔ اس کو اپنی بقیہ زندگی والدین کے ماحول سے باہر، دوسروں کے درمیان گزارنی پڑتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کا معاملہ کرتے ہیں۔ اس لاڈ پیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھ لیتا ہے کہ مجھ سے محبت کرنے والا وہی ہے جو میرے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرے ۔ لیکن یہ بچہ جب اپنے گھر سے باہر آتا ہے تو دوسرے لوگوں سے اس کو والدین والاڈ پیار نہیں ملتا۔ اب وہ ساری دنیا سے بے زار ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال نے تمام عورتوں اور مردوں کو شکایت کی نفسیات میں مبتلا کر دیا ہے، جب کہ صحیح یہ تھا کہ لوگوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے محبت کی نفسیات پیدا ہو۔ تربیتِ اولاد حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں کہ وہ اس کو اچھے آداب سکھائے: مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلِ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952)۔ اس حدیث میں بظاہر صرف والد کا ذکر ہے، مگر تبعاً اس سے مراد والد اور والدہ دونوں ہیں۔ نیز ادب کا لفظ یہاں تعلیم و تربیت کے تمام پہلوؤں کے لیے جامع ہے، خواہ وہ مذہبی نوعیت کی چیزیں ہوں یا دنیاوی نوعیت کی چیزیں۔ عورت اور مرد کو فطری طور پر اپنی اولاد سے غیر معمولی محبت ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اس محبت کا بہترین استعمال کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے ۔ وہ استعمال یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو آداب زندگی سکھائیں۔ وہ اپنے بچوں کو بہتر انسان بنا کر دنیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader