خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہوا
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
مصر میں ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو مرکز عمل بنالو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دے دو۔ اس آیت میں جو پروگرام دیا گیا ہے، اس کو حسب ذیل طریقے پر بیان کیا جا سکتا ہے: 1۔ جہاں ہو، وہاں جمے رہو۔ اپنے اندر خوف و انتشار کو جگہ مت دو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حضرت مسیح علیہ السلام نے ان لفظوں میں کہا تھا: جب تک عالم بالا سے تم کو قوت کا لباس نہ ملے اس شہر میں ٹھہرے رہو۔ (49:24) 2۔ اپنے گھر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لو، یعنی باہمی اتحاد، اندرونی استحکام، آپس کے صبر و نصیحت اور ذاتی ذرائع پر انحصار، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر تمھیں موجودہ حالت میں اپنی توجہات کو مرتکز رکھنا چاہیے۔ 3۔ نماز قائم کرو۔ یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو، اس کی یاد، اس سے مانگنا، اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل جھکا دینا، ان صفات کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر پیدا کرو۔ 4۔ یہی وہ طریق عمل ہے جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کی تمام خوش خبریاں چھپی ہوئی ہیں۔ پوری یکسوئی کے ساتھ ان کی تکمیل میں لگ جاؤ۔ تَبَوَّأَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا کا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے: ساکن کنید قوم خود را بہ شہر مصر در خانها (اپنی قوم کو مصر کے شہر میں گھروں میں قیام کراؤ)۔ قبلہ کا لفظ قبل کا اسم ہوتا ہے۔ اس کا اصل مفہوم ہے ”مرکز توجہ۔“ کہتے ہیں: قَبِلَتِ الْمَاشِيَةُ الْوَادِي (الغریب لابن عبید، جلد 3، صفحه 985)۔ یعنی، جانور وادی کی طرف متوجہ ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader