خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہوا
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل اسی دور مشقت سے گزر رہے تھے۔ آپ نے قبطی فرعونی تہذیب کے مقابلہ میں مغلوب حیثیت اختیار کرنے کے بجائے خود ان کے اوپر اقدام کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے دعوت دینی شروع کی کہ دین خداوندی کو اختیار کرو، ورنہ تم سب کے سب تباہ کر دیے جاؤ گے۔ یہ چیز فرعون کے غصہ میں صرف اضافہ کر سکتی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لیے مصر کی زندگی آپ کے آنے کے بعد تلخ تر ہو گئی۔ حتیٰ کہ اس میں مزید یہ اضافہ ہوا کہ شاہی حکم کے تحت بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کیا جانے لگا تا کہ ان کی نسل دھیرے دھیرے مصر سے ختم ہو جائے۔ قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران 1896 میں ایک کتبہ ملا ہے جس میں حضرت موسیٰ کے زمانے کا فرعون منفتحاح فخر کے ساتھ کہتا ہے ”اور اسرائیل کو مٹا دیا گیا، اس کا بیج تک باقی نہیں“۔ اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی: ”آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جا رہے تھے اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں“ (الاعراف 7:129)۔ اس انتہائی نازک مرحلہ میں بنی اسرائیل کو جو جواب دیا گیا، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (10:87)۔ یعنی، اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی کی کہ تم دونوں اپنی قوم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader