Urdu book · تاریخ کا سبق

تاریخ کا ایک سبق

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا ایک سبق ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے۔ اس لیے مغربی تہذیب سے تصادم کا مسئلہ سب سے پہلے یہیں پیش آیا۔ مگر اس کے جواب میں کیا ہوا۔ ایک طرف قدیم علما کا گروہ تھا جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کا اس درجہ مخالف تھا کہ سلطان سلیم ثالث (1708-1838) اور اس کے جانشین سلطان محمود (1839-1808) کی نئی فوجی تنظیمات اور ان جدید اصلاحات تک کی مخالفت کی، جو انھوں نے ترکی کو عسکری اور علمی لحاظ سے یورپ کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے دوش بدوش لے چلنے کے لیے نافذ کی تھیں۔ دوسری طرف ترکی کی وہ نئی نسل تھی، جو پیرس اور برلن اور لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر کے آئی تھی۔ وہ ترکی کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتی تھی۔ ان کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے مغربی تقلید کے جواز کے لیے ایک پورا فلسفہ بنا ڈالا۔ ضیاء گوگ الپ نے کہا: ”مغربی تہذیب در حقیقت بحر روم کی تہذیب کا امتداد ہے، اس تہذیب (جس کو ہم بحیرہ روم کے منطقہ کی تہذیب کہتے ہیں) کے بانی سماری، سیتھی، فنیقی، رعاة، ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ تاریخ میں قدیم زمانوں سے پہلے ایک طورانی دور کا وجود ملتا ہے، اس لیے کہ وسط ایشیا کے قدیم باشندے ہمارے اجداد تھے۔ اس کے بعد مسلمان ترکوں نے اس تہذیب کو ترقی دی اور اس کو یورپ تک پہنچایا، پھر مغربی و مشرقی سلطنت روما کے خاتمہ کے بعد ترکوں نے یورپ کی تاریخ میں انقلاب پیدا کیا، اور اسی بنیاد پر ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page