تاریخ کا ایک سبق
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
مغربی تہذیب کا جزء ہیں اور ہمارا اس حصہ ہے۔‘‘ ان کا منتہائے فکر یہ تھا کہ ’’وہ اپنے دماغ سے کام لے کر اپنے کو مغرب کی روشن اور بلند پایہ تہذیب میں نصب کرلیں‘‘ (عرفان اور گا، اتا ترک، 297)۔ کمال اتاترک (1938-1881) جب 1924 میں ترک جمہوریہ کے پہلے صدر مقرر ہوئے تو ان کے نزدیک جو سب سے اہم کام تھا وہ یہ کہ ترکوں کو مغرب کا لباس پہنا دیں۔ انھوں نے پردہ کو خلاف قانون قرار دیا۔ عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف جاری کیے، عربی میں اذان ممنوع ہوگئی۔ ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا۔ حتی کہ جب ایک خون ریز انقلاب کے بعد ہیٹ کی جنگ جیت لی گئی تو مصطفیٰ کمال نے مکہ کی موتمر اسلامی (1927) میں شرکت کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اس حال میں روانہ کیا کہ وہ اس کے واحد مندوب تھے جو اپنے سر پر مغربی ہیٹ رکھے ہوئے تھے۔ یہ گویا ترکی کی فتحِ عظیم کا اعلان تھا۔ یہی مثال ہر مسلم ملک میں پیش آئی ہے۔ ان میں ڈگری کا فرق تو ہوسکتا ہے، مگر نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ یہی ہوا کہ قدیم مذہبی طبقہ نے مغرب سے نفرت اور اجتناب میں زندگی کا راز بتایا اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے مغرب کی تقلید سے یہ امید کی کہ وہ دوبارہ بام عروج پر جائیں گے۔ مگر یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ لوگ شدت سے اس پہلو کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہوں کہ قوت وطاقت کے اس راز کو معلوم کرو جس سے مسلح ہو کر مغرب تمہارے اوپر اور دنیا کے اوپر چھار ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader