Urdu book · تاریخ کا سبق

تاریخ کا ایک سبق

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

ترکی کی یہ تاریخ ایک انتہائی مثال ہے، جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ملک کس طرح حالات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے اور نتیجہ وقت کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اسی کے ساتھ ترکی کی تاریخ میں دو اور علامتی مثالیں بھی ہیں ملی کام کے لیے جان دار کارکنوں کا نہ ملنا، اور تیاری کے بغیر اقدامات۔ جدید ترکی میں دو شخصیتیں علمی وفکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں، ایک نامق کمال (1840-1888) دوسرے ضیاء گوک الپ (1924-1875) دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرنچ زبانیں جانتے تھے۔ انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح اگر چہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے ۔ اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامق کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے اور "ترک اتحاد" کے بجائے "اسلامی اتحاد" کے الفاظ بولتے تھے۔ مزید یہ کہ نامق کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالده ادیب خانم نے ان کے بارے میں لکھا ہے : نامق کمال ترکی کی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔ ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی؟ Halde Edib, Turkey Faces West, p. 84 دوسری طرف ضیاء گوک الپ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ اس کے فکری نظام میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page