Urdu book · تاریخ کا سبق

تاریخ کا ایک سبق

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام بنیادی عامل کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس نے دعوت دی کہ ترکی کی تعمیر نو خالص قومی اور مادی بنیادوں پر کی جائے۔ وہ اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کا پر جوش علم بردار تھا۔ ترکی کی بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ترکی میں نامق کمال جیسے لوگوں کے افکار کو غلبہ نہیں ملا۔ بلکہ ضیاء گوک الپ جیسے لوگ عملاً وہاں کی سیاست وقیادت پر چھا گئے۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ضیاء گوک الپ کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کمال اتاترک (1924-1881) جیسا طاقتور اور مضبوط ارادہ کا آدمی مل گیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ نامق کمال نے اگرچہ اپنی قوم کے ایک طبقہ میں محبوبیت حاصل کی۔ تاہم اپنے خطیبہ نہ ادب میں وہ جن خیالات کو پیش کر رہے تھے، ان کے اندر روایتی لوگوں کے لیے خواہ کتنی ہی اپیل ہو، جدید افکار کے عالمی سیلاب میں اس کی حیثیت ایک قسم کے رومانی خواب کی تھی۔ اصولی طور پر بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ اسلام کو اجتماعی اداروں کی بنیاد ہونا چاہیے۔ مگر ایک ایسی دنیا میں جہاں عملی طور پر سیکولر افکار کا غلبہ ہو، کوئی شخص اپنا علیحدہ جزیرہ تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ عمومی فکری فضا کو اس کے موافق بنالیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page