Urdu book · تاریخ کا سبق

حقیقی جدوجہد کیا ہے

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے طور پر اسے ختم سمجھ لیتا ہے۔ کوئی قوم کتنے ہی بڑے پیمانہ پر دوسری قوم کے اوپر غالب آجائے، پھر بھی کچھ ایسے گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے جدوجہد کر کے دبی ہوئی قوم دوبارہ نئی زندگی حاصل کرلے پھر اس انقلاب ہی کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ کام محض جھنجھلاہٹ کے ساتھ سر ٹکرانے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ حالات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے اور حریف کے اس نازک گوشہ کو تلاش کیا جائے جہاں سے مؤثر جدو جہد کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ خدا نے اپنی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ہر بار گرنے کے بعد اس کے بندوں کے لیے دوبارہ ابھرنے کا ایک نیا امکان باقی رہے۔ مگر یہ امکان اسی کے لیے واقعہ بنتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی اسکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو اپنی خود ساختہ راہوں پر دوڑنا شروع کردے، اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ☆☆☆☆☆ گھڑی کی سوئی بظاہر جہاں سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے وہ اس کا شیشہ ہے۔ لیکن گھڑی کی سوئی گھمانے کے لیے کوئی شخص اس کے شیشہ پر زور آزمائی نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی چابی پر اپنا ہاتھ لے جاتا ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ملت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمارے تمام لیڈر "گھڑی" کے شیشہ پر زور آزمائی کر رہے ہیں۔ خواہ اس کا نتیجہ یہی کیوں نہ ہو کہ سوئی تو نہ گھومے البتہ غلط طریق عمل کی وجہ سے مسائل میں کچھ اور اضافہ ہوجائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page