Urdu book · تاریخ کا سبق

ناموافق حالات میں بھی موافق امکان

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ناموافق حالات میں بھی موافق امکان ان کے ناموافق حالات نے ان کے لیے ایک نیا موافق امکان پیدا کر دیا مادہ جب "برباد" کیا جاتا ہے تو وہ انرجی بن جاتا ہے، جو مادہ کی زیادہ وسیع اور طاقت ور صورت ہے۔ یہی خدا کی اس کائنات کا عام قانون ہے۔ یہاں ہر محرومی کے اندر ہمیشہ ایک نئی یافت کا امکان چھپا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت خاص جس کا ظہور عالم مادی میں ہوا ہے، اس کا وعدہ زیادہ بڑے پیمانہ پر اہل ایمان کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے لیے ان کا رب ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو پیدا کر دیتا ہے، بشرطیکہ وہ فی الواقع خدا کے ہو چکے ہوں۔ ان کی منصوبہ بندی خالص خدائی مشن کے لیے ہو، نہ کہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے۔ مکہ میں جب مسلمانوں کے حالات سخت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا: تم لوگ حبش چلے جاؤ۔ وہاں کا بادشاہ نجاشی عیسائی ہے اور نیک نفس ہے۔ وہ تم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا۔ چنانچہ 615ء میں پندرہ آدمی جدہ پہنچے اور کشتیوں پر سوار ہو کر حبش چلے گئے ۔ دوسری بار 617ء میں ایک سو مسلمان حبش گئے ۔ بظاہر یہ ایک ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک خیر کی صورت پیدا کر دی۔ مکی مسلمانوں کا حبش پہنچنا وہاں اسلام کو موضوع بحث بنانے کا سبب بن گیا۔ پیغمبر اسلام کی بعثت اور آپ کی دعوت کی خبریں حبش میں پھیلنے لگیں۔ قریش کے ایک مخالفانہ وفد حبش پہنچنے کے نتیجہ میں حضرت جعفر کو موقع ملا کہ دربار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page