Urdu book · تاریخ کا سبق

ناموافق حالات میں بھی موافق امکان

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

شاہی میں اسلام کی دعوت پر مفصل تقریر کر سکیں۔ اس طرح کے واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبش سے 20 عیسائیوں کا ایک وفد مکہ آیا تا کہ اصل معاملہ کی تحقیق کر سکے۔ جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں تھے۔ وہ وہاں گئے اور آپ سے مل کر مختلف سوالات کیے اور پوچھا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ خدا نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے اور قرآن کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں۔ یہ لوگ چونکہ تعصب سے خالی تھے، قرآن سن کر بہت متاثر ہوئے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ بلاشبہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ جس وقت یہ واقعہ ہو رہا تھا، قریش کے بہت سے لوگ وہاں جمع تھے اور سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انھیں حیرت بھی تھی اور غصہ بھی آ رہا تھا کہ جس دین کو انھوں نے رد کر دیا ہے، اس کو باہر کے لوگ آ کر اپنا رہے ہیں۔ حبش کے یہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر ان سے راستہ میں ملا۔ اس نے ان لوگوں کو ملامت کرتے ہوئے کہا: ”ہمارا خیال ہے کہ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ تمھارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے یہاں بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرو اور واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتاؤ۔ مگر ابھی تم اس سے ملے ہی تھے کہ اپنے دین کو چھوڑ بیٹھے“۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے یہ بنی اسرائیل کے علما تھے(26:197)۔ انھوں نے ابو جہل، وغیرہ، سے کوئی بحث نہیں کی۔ بلکہ صرف یہ جواب دیا: ”سلام ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page