ناموافق حالات میں بھی موافق امکان
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
بھائیوں تم کو، ہم تمھارے ساتھ بات نہیں کر سکتے ہیں، ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو، ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 392) انھیں لوگوں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ * وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ * أُولَٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ * وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ (52-55: 28)۔ یعنی، جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے، یہ بلاشبہ خدا کی طرف سے ہے۔ ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دہرا اجر دیا جائے گا، ان کے صبر کے بدلے۔ وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے جب لغو بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے الگ ہو گئے: ہمارے اعمال ہمارے ساتھ اور تمھارے اعمال تمھارے ساتھ، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ناموافق حالات میں موافق امکان کن لوگوں کے لیے ہے، یہ ان لوگوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader