ناموافق حالات میں بھی موافق امکان
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ہے جو صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ صبر یہ ہے کہ ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اقدام کرنے سے پر ہیز کیا جائے، اور جو فیصلہ کیا جائے غیر متاثر ذہن سے سوچ سمجھ کر کیا جائے ۔ ایسا انسان اپنی رفتار سفر کو خدا کی رفتار سے ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ اس کو ان خدائی بخششوں میں حصہ ملنے لگتا ہے، جو جلد بازی سے بچنے والوں کے لیے مقدر ہیں۔ ایک درخت کاٹ دیا جائے تو ظاہر ہیں کے لیے گویا درخت ختم ہو گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس کی باقی ماندہ جڑوں سے نئی پتیاں نکل رہی ہیں۔ حتی کہ انتظار کو طویل کیا جا سکے تو دیکھنے والا دیکھے گا کہ جہاں درخت بظاہر ختم ہو گیا تھا، وہاں دوبارہ ایک نیا درخت کھڑا ہو گیا ہے۔ خدا کا یہی معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ ہر بار جب کسی قوم یا شخص کے لیے ایک امکان ختم ہوتا ہے تو قانون قدرت کے تحت ایک دوسرے امکان کی کونپلیں اس کے لیے نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مگر جلد باز انسان صبر نہیں کرتا۔ وہ فوری نتیجہ حاصل کرنے کے شوق میں ایک ال ل ٹپ چھلانگ لگا دیتا ہے۔ اس کی جلد بازی اس کو موقع نہیں دیتی کہ وہ نئے ابھرنے والے امکانات کو دیکھ سکے اور ان کے مطابق اپنے اگلے عمل کی منصوبہ بندی کرے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک کے بعد ایک لا حاصل اقدامات میں اپنی قوتوں کو ضائع کرتا رہتا ہے اور اس کی نوبت ہی نہیں آتی کہ وہ اس ’’دوسرے‘‘ دروازہ میں داخل ہو سکے جو ’’پہلا‘‘ دروازہ بند ہونے کے بعد اس کے رب نے اس کے لیے کھولا تھا۔ صبر سب سے بڑا دین ہے۔ مگر بہت کم ہیں جو اس پہلو سے دیندار بننے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader