تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زرخیز حصے اس زمانہ کی دو بڑی شہنشاہیوں، ساسانی سلطنت اور اور بازنطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں عمارت غساسنہ اور امارت بُصری تھی۔ یہ دونوں بازنطینی سلطنت (رومیوں) کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی صحیح مذہب اختیار کر چکی تھی ، عرب کے جنوب میں امارت بحرین، امارت عمان، امارت یمامہ تھی۔ یہ ریاستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔ 6ھ میں جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہوا اور حالات پر امن ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر شجاع بن وہب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ اس مراسلہ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی ( يَبْقَى لَكَ مُلْكُكَ )۔ اس نے مکتوب نبوی میں یہ جملہ پڑھا تو اس کو غصہ آگیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا: میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے ( مَنْ يَنْزِعُ مِنِّي مُلْكِي )۔ ( تاریخ الطبری، جلد 6، صفحہ 652) حاکم بُصری شرحبیل بن عمر و غسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حارث بن عمیر از دی آپ کا خط لے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader