تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
کرگئے تھے۔ وہ سرحد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھے کہ حاکم بصریٰ کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا۔ بین الاقوامی روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ مختلف قرائن یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشاہیت اس کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہو اور ترقی کرے۔ حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر موضع حرق میں جمع ہو جائیں، چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ آپ نے اس لشکر پر زید بن حارثہ کو سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔ اسلامی لشکر نے معان (شام) پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بُمصریٰ بھی جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کی حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل اُنھیں دنوں آب (بلقاء) میں آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی ۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم ، جذام ، قین، بہراء ، ابلی بھی مسیحی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader