تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ 8ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس وقت لشکرِ اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھالیا اور بلند آواز سے کہا ”مسلمانو! کسی ایک شخص کو امیر بنانے پر اتفاق کرلو۔“ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی رَضِيْنَا بِكَ ( ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں) ثابت ابن اقرم نے جواب دیا: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ - فَاصْطَلِحُوا عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِید (الکامل فی التاریخ، جلد 2، صفحہ (114) یعنی، میں یہ کام نہ کرسکوں گا، تو ان لوگوں نے خالد بن ولید کو اپنا سردار بنا لیا۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں دو ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ تا ہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غساسنہ مدینہ پر چڑھ آئیں، اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ 5 ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ازواجِ رسول نے اضافہ نفقه کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ووا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھالی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا : ”کچھ سنا آپ نے تو عمر فاروق کی زبان سے فورا نکلا: کیا غساسنہ آگئے“۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی طرف سے مدینے کے لیے کتنا خطرہ لاحق تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader