تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ نہ صرف ایک بہادر نوجوان تھے بلکہ ان کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھی موجزن تھا۔ کیونکہ موتہ کی جنگ میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں لشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ ہو گیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ روانگی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جبکہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے، مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا۔ ”اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو“ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر، جلد 9 ، صفحہ 421)۔ صدیق اکبر کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader