تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایمانی جرأت کام آئی۔ اسامہ کا لشکر نہ صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا جبکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور نسبتاً آسانی کے ساتھ وہ مغلوب کر لیے گئے۔ اس واقعہ میں ایک اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آ رہے تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا دوسرا میدان نہ پا کر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر دیا۔ اب عربوں کی جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارت گری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ جان بیگٹ گلب پاشا نے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائمز آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: ”عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ و جدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی رہے تھے۔ یہ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل تھی۔ اب جب کہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے سے بھڑنے سے روک دیے گئے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پر امن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader