Urdu book · تاریخ کا سبق

تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

634ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا۔ اسی اثنا میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جوہیرہ کی لکھی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ 26 اگست کو بازنطینی (رومی) قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری 637ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر جوہیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھی مکمل طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ 640ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر بازنطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر 642ء تک پورے مصر پر عرب کا قبضہ مکمل ہو گیا۔ اسی سال بچی کچی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد پہلے خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ نے، انتہائی نازک حالات کے باوجود حضرت اسامہ کے لشکر کورومیوں کی طرف بھیجا۔ یہ مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک عظیم سبق تھا۔ مسلمانوں کے لیے طاقت آزمائی کا میدان خارجی دنیا ہے، نہ کہ داخلی دنیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ اہم ترین سبق بعد کے زمانہ میں مسلمان بھول گئے۔ خاص طور پر موجودہ زمانہ میں تو یہ حال ہے کہ مسلم ممالک دو گروہوں (ترقی پسند اور قدامت پسند) میں بٹ کر ایک دوسرے کے حریف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مسلح فوجیں اپنے ہی ملکوں کو ”فتح“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page