کامیابی پر جوش اقدام کا نتیجہ نہیں
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیابی پر جوش اقدام کا نتیجہ نہیں ان کی کامیابی محض پر جوش اقدام کا نتیجہ نہ تھی بلکہ سوچے سمجھے منصوبہ کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ بحرظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے۔ اس طرح کے الفاظ نے مسلمانوں میں نا عاقبت اندیشانہ اقدام کا ذہن پیدا کیا ہے، حالاں کہ خود اس شعر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ ایک سوچی سمجھی پیش قدمی تھی نہ کہ محض ایک پر جوش چھلانگ۔ 16ھ میں اسلامی فوج سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں عراق کے علاقوں کو فتح کر رہی تھی۔ بہرہ شیر کو فتح کر کے جب وہ آگے بڑھی تو سامنے دریائے دجلہ تھا اور اس کے دوسری طرف مدائن جو ایرانیوں کا ایک اہم شہر تھا اور وہاں انھوں نے زبر دست قلعہ بنا رکھا تھا۔ ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوئے دجلہ کے پل کو توڑ دیا تھا اور دور تک کوئی کشتی بھی نہ چھوڑی تھی جس سے اسلامی لشکر دریا کو عبور کر سکے۔ سعد بن ابی وقاص اگلے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا : وَقَالَ : قُولُوا نَسْتَعِينُ بِاللَّهِ، وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ، حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيُّ الْعَظِيم (تاریخ الطبری، جلد 4، صفحہ 10)۔ یعنی، ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے عظیم و برتر خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ آپ کو دیکھ کر دوسروں کو بھی جرأت ہوئی اور پورا لشکر اپنے گھوڑوں کے ساتھ دریا میں تیرنے لگا یہ لوگ نصف سے زیادہ دریا پار کر چکے تھے کہ ایرانی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش شروع کر دی جو دریا کے دوسرے کنارے پر پہلے سے موجود تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader