کامیابی پر جوش اقدام کا نتیجہ نہیں
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
دریا میں تیرتا ہوا لشکر اس ناگہانی آفت کا خود مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ پھر کیا چیز تھی جس نے فوج کو برباد ہونے سے بچایا۔ یہ کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ محض جوش کا کرشمہ تھا۔ یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی۔ جو کچھ ہوا، وہ عین اس نقشہ کے مطابق ہوا جو پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔ صورت حال پیش آنے کے بعد سعد بن ابی وقاص نے باقاعدہ مشورہ کیا۔ سعد بن ابی وقاص جہاں نصرت الہی پر یقین کرتے ہوئے دریا میں کود پڑے، وہیں انھوں نے حالات کا مکمل جائزہ لے کر اس آنے والی آفت کا بھی پیشگی اندازہ کر لیا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انھوں نے گھوڑادریان میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو لشکر یوں سے فرمایا کہ "تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے امکانی حملہ سے بچائے گا۔" عاصم بن عمرونے اس کی ذمہ داری لی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی ایرانی تیر اندازوں نے دجلہ میں تیرتے ہوئے اسلامی لشکر پر تیر پھینکنے شروع کیے، عاصم بن عمرو کا دستہ فورا متحرک ہوگیا۔ اس نے ایرانی تیر اندازوں پر اتنی قوت کے ساتھ مسلسل تیر برسائے کہ انھیں دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا۔ کثرت سے ایرانی مجروح اور ہلاک ہونے لگے حتیٰ کہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس درمیان میں اسلامی لشکر دریا پار کر کے دوسرے کنارے پہنچ گیا اور ایرانی لشکر پر سخت حملہ کر کے مدائن پر قبضہ کر لیا۔ (الکامل فی التاريخ لابن اثیر، جلد 2، صفحہ نمبر 339)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader