پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت حسن نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خلافت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔ مگر ان کے اندر چونکہ اقتدار کی ہوس نہ تھی، انھوں نے بہت جلد اس حقیقت کو محسوس کر لیا کہ موجودہ حالات میں ان کا خلافت پر اصرار کرنا صرف ملت کے انتشار میں اضافہ کے ہم معنی ہوگا۔ انھوں نے ایک حقیقت پسند انسان کی طرح ایک بار اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے کہا تھا: ”میں جانتا ہوں کہ نبوت وخلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں“ اسی نزاکت کی وجہ سے آپ نے بیعت کے وقت لوگوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ ”میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے“۔ حضرت علی کے بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا۔ دوسری طرف حضرت امیر معاویہ کے لیے حضرت علی کا اس دنیا سے جانا گویا راستہ صاف ہونے کے ہم معنی تھا۔ انھوں نے حضرت علی کی شہادت کی خبر ملتے ہی اپنے لیے ”امیر المومنین“ کا لقب اختیار کر لیا اور منصوبہ بنایا کہ بقیہ اسلامی علاقوں (عراق وايران) کو بھی اپنے ماتحت کر کے اپنی حکومت کو مکمل کر لیں۔ امیر معاویہ تجدید بیعت سے فارغ ہونے کے بعد ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، کوفہ میں داخلہ سے پہلے انھوں نے امام حسن کو پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر یہ ہے کہ آپ مجھ سے صلح کر لیں اور مجھ کو خلیفہ وقت تسلیم کر لیں۔ امام حسن کے پاس بھی اس وقت ساٹھ ہزار کا لشکر تھا جو لڑنے مرنے پر تیار تھا۔ مگر امام حسن نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader