Urdu book · تاریخ کا سبق

پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کو باہمی خون ریزی سے بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ اپنے حق خلافت سے از خود دست بردار ہو گئے اور صرف چھ ماہ خلیفہ رہ کر امیر معاویہ کے ہاتھ کوفہ کی مسجد میں بیعت کر لی۔ امام حسن کے پر جوش حامیوں کے لیے یہ ”ذلت “ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔ آپ کو عَارُ لِلْمُسْلِمِیْنِ (مسلمانوں کے لیے ننگ ) کا خطاب دیا، کہا کہ آپ کافر ہو گئے ہیں۔ آپ کے کپڑے نوچے، حتی کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بلکہ فرمایا: ” خلافت اگر معاویہ بن ابوسفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا۔ اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔“ (تاریخ دمشق ، ابن عساکر، جلد 7، صفحہ 36-35) ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا اور 41ھ جو اسلامی تاریخ میں صفین وجمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خون ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا ۔ وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا، مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی ، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی ۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page